0

دعا کا طریقہ

.دعا کا طریقہ

حضور کی ذات پاک محمد مصطفی سرکار دو عالم سلیم نے دعا کا بتایا ہے وہ اس طرح ہے ۔ اسے اللہ اشکل کو آسان کر دے، دنیاو آخرت میں بھلائی عطا فرما، صراط مستقیم کو پر لطف بنا دے ۔ ہماری منزل تو خود ہی ہے نفس پر قابو پانے کی وجہ سے دوزخ بھی مومن کے میلئے جنت نظر آتی ہے۔ مومن نے نفس امارہ کی دوزخ کی آگ کی جگہ نفس مطمئنہ کا پانی حاصل کر لیا۔ عاشق دوست کے رخ کی شمع کے پروانے میں اور تمہاری حفاظت کی زرہ ایسے صاحبان روح کی پناہ میں جاؤ ۔ عبادات کو فوت ہونے سے پہلے پورا کرو اور اس فرمان کی وجہ سے جگاؤ جب حق نے محبت کا ہاتھ سر پر رکھا تو عتاب میں بھی کرم کے دروازے کب بند ہو سکتے ہیں تخلیق کرنے کا مقصد ہی احسان کرنا تھا۔
مولانا روم مذکورہ حکایت میں یہ درس دیتے ہیں :
☆ جو لوگ اپنے نفوس پر قابو پالیتے ہیں۔ ان کے سامنے دوزخ کی کوئی حقیقت نہیں۔
☆ سر کار کا بتایا ہوا طریقہ استعمال کریں۔ مسائل حل ہو جائیں گے۔

بڑا جبہ بڑا دھوکا

ایک مولانا صاحب بڑا خوبصورت جبہ اور قبا نما عمامہ پہنے ہوئے ممبر پر تشریف لائے ۔ آپ تقریر کرتے وقت خوب سر منکاتے تھے۔ یہ قبا ما عمامہ صرف ظاہر میں خوبصورت تھا اندر سے وہ ایساہی زشت تھا۔ جیسے منافق کا دل کہ دیکھنے میں خو بصورت مگر باطن میں سراسر پاپ مولانا کا عمامہ تھا بلکہ بر او فخر کا ایک طلسم تھا جس میں رعونت بھری ہوئی تھی۔ ایک دن یہ مولانا صاحب صبح کے وقت ایک کو چہ سے گزر رہے تھے۔ وہاں ایک اچکا ( بد معاش ) گھات لگائے کھڑا تھا۔ ہاتھ میں اندھوں کی طرح لاٹھی لئے ہوئے پاس سے گزرے تو وہ ایک (اچکا ) چھپٹا مار کر دستار بازار کے طرف لے اڑا۔ وہ خوشی سے اس طرح دوڑا جار ہا تھا کہ گویا اسے بہت بڑا خزانہ مل گیا ہے۔
مولانا نے پکار کر کہا۔ او میاں جانے والے عمامہ کو کھول کر تو دیکھ کہ یہ کیا چیز ہے۔ تو کھول کر اس کا ملاحظہ کر پھر جائے تو تجھے ملال ہے۔ اپکے نے جو اسے کھولا تو اس میں دھجیاں اور چیتھڑے گرنے لگے ۔ ہاتھ میں صرف ایک کمخواب کا پرانا پارچہ رہ گیا۔ اسی میں کسی استاد درزی نے میتھرے بھر کر اسے نمائشی عمامہ بنادیا تھا۔ چور نے اسے ( نمائشی عمامہ کو بھی زور سے زمین پر دے مارا۔ اور کہا مولوی ! تو تو عمامہ کی آڑ میں شکار کھیلنے والا ہے۔ خدا سے ڈر اور دھوکہ بازی چھوڑ دے۔ خلقت کا ایمان کیوں لگتا ہے ۔ یہ عمامہ تھی کو مبارک ہو ہم تو خیر بدنام تھے ہی مگر تو ہمارا گرو اور اس سے کہیں بڑھ کر نکلا۔
☆ مولا تا روم مذکورہ حکایت میں یہ درس دیتے ہیں :
☆ ہمیشہ ظاہر اور باطن ٹھیک رکھیں ۔
☆ ہاتھ میں صبیح لب پر افت تو بہ مگر دل ذوق گناہ سے پر ہو ۔ درست نہیں ۔

حسد تمام برائیوں کی جڑ ہے

حسد کو تمام برائیوں کی جدا سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں۔ کیونکہ ۔ شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام سے حسد کیا، خود کو بے شمار تباہیوں میں مبتلا کر کے بدنام ہوا۔ قیامت تک لعین قرار دیا گیا۔ ابو جہل جس نے آقائے دو جہاں حضور نبی کریم کی ہیں سے حسد کیا ابو حکم سے ابو جہل بن گیا۔ یزید نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے حسد کیا تا قیامت مردود قرار پایا۔ اسی طرح کی بے شمار مثالیں دنیا میں نظر آتی ہیں اور تاقیامت آتی رہیں گی۔
رب کریم کی ذات پاک نے انبیاء کرام رضوان اللہ علیہم کا واسطہ اس لئے بنایا ہے ان کی تعلیمات کی روشنی میں حسد نمایاں طور پر نظر آجائے ۔ حاسدوں کے لئے روز محشر تک ایک دائی آزمائش ہے جس میں وہ مبتلا رہے گا۔ جس کی عادت نیک ہوئی وہ ان کی اتباع ہرگز
ہرگز نہیں کرے گا۔
مولانا روم مذکورہ حکایت میں یہ درس دیتے ہیں :
☆ حسد انسان کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح دیمک لکڑتی کو کھا جاتی ہے ۔
☆ حسد کرنے والا دین و دنیا میں ہمیشہ رسوا رہتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ حسد کرنے کی
بجائے رشک کریں ۔ تا کہ ترقی کی منازل طے کر سکیں۔

آزاد کون ہے؟

خواہش نفسانی سے آزادی پانے والا ہی حقیقی آزاد ہے۔ دنیا مگر وفریب کے زہد کی قدر کرتی ہے جبکہ فقیر اللہ والے) کو دنیادار، مامی سمجھتے ہیں۔ یاد رکھیں : اللہ والا ( فقیر ) باطن کا نور رکھنے والا ہوتا ہے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اصل حال پر نظر رکھتے ہیں۔ ایمان و محبت قابل قدر چیزیں ہیں اور تمہاری حرص و غفلت جس کی جانب تم توجہ نہیں کرتے وہ شیطان چوری کر سکتا ہے جبکہ عاجزی اور فنا کی مزدوری ترک خودی عطا کرتی ہے۔
مولانا روم مذکورہ حکایت میں یہ درس دیتے ہیں :
ہ شیطان ایمان اور اللہ سے محبت پر ڈاکہ ڈالتا ہے۔ تم نے اگر دونوں پر دسترس حاصل
کرلی ہے تو تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
ہیں دنیار یا کار اور فریب کار کو بہتر سمجھتی ہے جبکہ اللہ والے ایسے کام سے نفرت کرتے ہیں۔
حکایت

خوشی کا مقام

یہ تو خوشی کا مقام ہے اب تک تو میں زندگی کی مصیبتوں میں مبتلا تھا۔ یہ الفاظ سیدنا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ہیں۔ جب وہ زیادہ کمزور ہو گئے اور موت کے یقینی ہونے کے آثار آنے لگے۔ ہوی نے یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے کہا ” میں تو بر باد ہوگئی آپ رضی اللہ عنہ تنہا رخصت ہو کر مسافر بن رہے ہیں اور اپنے اہل و عیال سے دور ہو رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ ایسا ہر گز نہیں بلکہ آج رات میری جان سفر کے بعد واپس لوٹ رہی ہے۔ بیوی بولی کہ یہ ، تو بڑے دکھ کا مقام ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ یہ تو خوش نصیبی ہے ۔ بیوی بولی کہ اب ہم آپ کا چہرہ کیسے دیکھ سکیں گے؟ آپ نے فرمایا کہ اب میں بارگاہ الہی میں ہوں گا اور اس کا حلقہ ہر ایک ساتھ پیوستہ ہے ۔ اگرتو اپنی نظر بند کرے اور پستی کی جانب نہ جائے تو اس حلقہ میں نورانی اس طرح چمکتا ہے جس طرح انگوٹھی میں جدا ہو نگینہ ۔
میں اب معارف اور اسرار کا خزانہ بن گیا ہوں ۔ میرے جسم میں اسے سنبھالنے کی سکت نہیں ہے۔ میں جب گدا تھا تب میری روح اس جسم میں سما سکتی تھی اب جبکہ میں معارف کا شاہ بن گیا ہوں تو اس کے لئے وسیع جگہ کی ضرورت ہے اور انبیاء کرام علیہ السلام اجمعیں بھی اسی وجہ سے دنیا کو ترک کر کے آخرت کی جانب روانہ ہوئے ۔ جو لوگ مردہ دل ہوتے ہیں ان کے لئے دنیا عدت کی جگہ ہے اور اہل دنیا کے لئے یہ وسیع جبکہ اٹل باطن کے لئے یہ دنیا تنگ ہے۔ اگر دنیا تنگ نہیں ہے تو پھر یہاں کے رہنے والوں میں ہنگامہ آرائی کیسی ہے؟ یہاں تھی کا احساس محسوس ہوتی ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح ظالموں کے چہرے بظاہر خوش ہوتے ہیں لیکن ان کی روح تھکی کی وجہ سے آدو بکا میں مشغول ہوتی ہے۔ اولیاء اللہ کی روح عالم بیداری میں اسی طرح آزاد ہوتی ہے جس طرح عوام الناس کی روح نیند کے وقت اور ان کی مثال اصحاب کہف کی ہے جو دنیاوی اعتبار سے تو نیند میں تھے اور اخروی اعتبار سے بیدار تھے۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ زندگی کی حالت میں روح جسم میں ٹیڑھی رہتی ہے جس طرح بچہ ماں کے پیٹ میں نئے ھا ہوتا ہے ۔ جسم پر موت کی تکلیف ایسی ہی ہے جس طرح بچہ کی پیدائش کے وقت ماں کو درد ذرہ کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے ۔ موت کے وقت روح پرواز کرتی ہے اور موت کی تکلیف برداشت کرنی پڑتی ہے۔ موت کے بعد روح پرواز کرتی ہے اور موت کی تکلیف جسم کو ہوتی ہے اور روح اس درد کی قید سے آزاد ہوتی ہے ۔ اس دنیا میں ہر انسان دوسرے کے درد سے ناواقف ہے ماسوائے اٹل
اللہ کے جو اللہ عز وجل کی رحمت سے ہر ایک کے احوال سے واقف ہوتے ہیں۔
مولانا روم مذکورہ حکایت میں یہ درس دیتے ہیں :
☆ اللہ کے نیک بندے موت کو اپنے لئے انعام سمجھتے ہیں ۔ جبکہ عام لوگوں کی موت
باعث عذاب ہوتی ہے۔
اللہ کا ذکر کرنے والا انسان اس دنیا سے جاتے وقت اپنے انعامات کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ جبکہ دوسرا ایسا گڑھا دیکھ رہا ہوتا ہے جس میں وہ جانے والا ہوتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں