0

مٹی میں ہی جانا ہے

مٹی میں ہی جانا ہے

حضرت مالک بن دینار کا واقعہ ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن ایک لڑکے کے پاس سے گزرا جوٹی کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اس کی کیفیت کبھی رونے والی تھی اور کبھی ہنے والی تھی۔ میں نے ارادہ کیا کہ اسے سلام کروں لیکن میرے اندر کا تکبر مجھے روکنے لگا۔ اور دلیل پیش کی کہ یہ لڑ کا چھوٹا ہے اور تو بڑا ہے ۔ تیرا اسے سلام کرنا بہتر نہیں۔ اچانک حضور کی ذات پاک ﷺ کا فرمان یاد آیا۔ ہر چھوٹے بڑے کو سلام کہتے ہیں پس میں نے لڑکے کو اسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کہا۔ لڑکے نے مجھے جواب میں وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ کہا اور ساتھ ہی میرا نام ( اے مالک بن دنیار ) میں نے اس سے پوچھا تم میری شکل اور میرے نام سے کیسے واقف ہوئے جبکہ تم نے مجھے بھی دیکھا ہی نہیں ؟ اس نے جواب دیا ” روز میثاق جب میری روح تمہاری روح سے ملی تھی اللہ نے میرا اور آپ کا تعارف کرادیا تھا۔ میں نے اسے مزید کریدتے ہوئے پوچھا۔ بیٹے یہ تو بتا کہ عقل اور نفس میں کیا فرق ہے اس نے کہا کہ تمہار انفس وہ ہے جس نے تمہیں سلام سے روکا تھا اور عقل وہ ہے جس نے تمہیں سلام پر ابھارا تھا۔
میں نے کہا: تو مٹی سے کیوں کھیل رہا ہے؟ اس نے جواب دیا۔ اسی سے پیدا ہوئے اور اسی میں جانا ہے۔
میں نے اس کے رونے اور بسنے کی وجہ پوچھی ۔
اس لڑکے نے جواب دیا۔ جب مجھے اللہ کا عذاب یاد آتا ہے تو روتا ہوں ۔ جب اس کی رحمت ، فضل، کرم کی بارش پر نظر پڑتی ہے تو بہتا ہوں ۔ خوش ہوتا ہوں۔ میاں صاحب کھڑی شریف والوں نے کیا خوب کہا ہے ۔
انصاف کریں تے تھر تھر کنبین آچایاں شاناں والے فضل کریں تاں بخشے جاون میں جائے منہ کالے میں نے کہا تمہاری عمر ہی کیا ہے ۔ تم تو ابھی بچے ہو تم گناہوں سے پاک ہو پھر رونے کی کیا وجہ ہے رونا اسے چاہئے جس کی عمر زیادہ اور مگناہ گار ہے۔ تمہیں رونے کی ضرورت ہی نہیں ۔
لڑکے نے جواب دیا۔ اے مالک بن دینارا ایسی بات منہ سے مت نکالو میں نے اپنی والدہ صاحب کو آگ جلاتے ہوئے دیکھا ہے۔ وہ بڑی لکڑیوں کو جلانے سے پہلے چھوٹی لکڑیوں جلاتی تھی۔
یاد رکھیں :
ہیں جب بھی ایک دوسرے سے ملو اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“ کہنے میں پہل کریں۔ ہو نفس برائی کی طرف توجہ دلاتا ہے جبکہ عقل بھلائی کا حکم دیتا ہے ۔ نفس کو چھوڑو۔
عقل کی بات مانو انسان مٹی سے بنا ہے اور اس میں جانا ہے ۔ غرور کیسا تکبر کیسا.
بہتر طریقہ
ایک آدمی نے حضرت عبداللہ کو ان کی وفات کے بعد خواب میں دیکھا۔ ان سے پوچھا: آپ کے اس دنیا سے پردہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو کس چیز کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے فرمایا: اے شخص کیا بتاؤں ۔ میں نے دنیا میں ایک بد عقیدہ اور گمراہ
شخص کو پیار کی نظر سے دیکھا تھا ۔ یہاں بد عقیدہ اور گمراد سے مراد حضور کریم سرکار دو عالم سی سی کی
ذات پاک سے محبت نہ کرنے والو کا ذکر ہے ۔ اس کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے مجھے میں
سال اپنے سامنے کھڑے رکھا اور سخت ڈانٹ ڈپٹ کی۔
یاد رکھیں :
☆ ہمیں چاہئے کہ گراو، بے دین اور بد کردارلوگوں سے پہلیں۔
☆ ہمیں اللہ کے نیک بندوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے

پر ہیز کریں کس سے؟

حضرت عیسیٰ کو ایک یہودی کے ساتھ سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ حضرت عیسی کے پاس سونے کی تین ٹکڑویاں تھیں۔ آپ نے ان کو یہودی کے سپر دئیں اور کہا راستے میں اگر ضرورت پڑی تو لے لوں گا۔ یہودی نے اجازت لیے بغیر ایک ٹکڑی کو خرچ کر دیا۔ راستے میں کسی ضرورت کے تحت آپ نے سونے کی وہ تینوں ہجڑیاں مانگی تو اس نے دو واپس کیے۔ آپ نے یہودی سے دریافت کیا تیسر انگڑا کہاں ہے؟ یہودی نے انکار کرتے ہوئے بولا آپ نے صرف دو ہی مجھے دئیے تھے ۔ آپ اس کے انکار پر غصہ کی بجائے خاموشی اختیار کی اور سفر جاری رکھا۔ دوران سفر عیسی علیہ السلام سے بڑے بڑے کمالات ظاہر ہوئے جو یہودی نے بھی دیکھے ۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اب اسے قسم دے کر کہا کہ اب بتا وہ پکڑا کہاں ہے؟ یہودی پھر انکار کر دیا۔ اور اپنی بات پر ڈٹا رہا کہ آپ نے مجھے دو ہی دیے تھے۔ چلتے چلتے آپ کو تین سونے کی انیٹیں ملیں ۔ آپ نے یہودی سے فرمایا۔ ایک اینٹ میری ۔ ایک تیری ہے۔ جبکہ تیسری کے بارے میں خاموشی سے علیحدہ رکھتے ہوئے کہی یہ اس کی ہے جس نے پہلے سونے کا ایک ٹکڑا خرچ کر ڈالا کہاں سونے کی انیٹ اور کہاں ہونے کا ایکوا؟ یہودی فورا بولا وہ پکڑا میں نے خرچ کر ڈالا لیکن  آپ نے ساری انیٹیں اسے دے کر اپنے سے دور ہو جانے کا حکم دیا آپ نے فرمایا اے بے وقوف انسان تم نے میرے ساتھ دوران سفر میرے معجزات اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کرشمے دیکھے لیکن ایک سونے کا نگو اخرچ کرنے کا اقرار نہ کیا۔ اب جبکہ انھیں سامنے آئیں تو لالچ میں آکر اقرار کر لیا۔ لالچی تھا شاید یہ نہیں جانتا تھا کہ لالچ بڑی برا ہے ۔ اور جھوٹ کا کیا انجام ہوگا قصہ مختصر یہودی وہاں سے چلا گیا ۔ راستے میں اسے تین ڈاکو ملے انہوں نے یہودی کو قتل کر دیا اور اینٹیں اپنے قبضے میں لے لیں ۔ اب ان ڈاکوؤں نے اپنے ایک ساتھی کو کھانالانے کے لیے شہر بھیجا۔ جب وہ چلا گیا تو باقی دو ڈاکوؤں نے مشورہ کیا کہ اسے آتے ہی قتل کر دیا جائے اور سونے کی اینٹیں ہم بانٹ لیں ۔ جو کھانا لینے گیا تھا اس نے سوچا کھانے میں زہر ملا دیا جائے وہ کھاتے ہی مرجائیں گے اور سونے کی انیٹیں میں لے لوں گا۔ جب وہ واپس آیا تو ان دو ڈاکوؤں نے اسے قتل کر ڈالا اور کھانا کھانے لگے کھانا زہریلا تھا۔ کھاتے ہی ان کی موت واقع ہو گئی۔
حضرت عیسی علیہ السلام کا واپسی پر وہاں سے گزر ہوا تو دیکھا کہ چاروں ( تین ڈاکو اور ایک یہودی مر چکے تھے۔ ہونے کی انٹیٹیں وہاں رکھی تھیں۔
یاد رکھیں :
☆ جھوٹ جمع ، لالچ سب غلط ہیں۔ ان سے پر ہیز کریں۔
☆ حرام مال حرام کی طرف جائے گا۔ مال حرام جائے حرام رفت، اللہ تعالیٰ کے حضور
پیش ہوتے ہوئے جو اب علیحدہ دینا پڑے گا۔ کہ یہ کیوں کیا ؟
امیر آدمی اور زکوة
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بزرگ نما شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ جو
نهایت خشوع و خضوع سے نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ اس سے بڑے متاثر ہوئے اور بارگاہ الہی
میں عرض کی یا اللہ! یہ بہترین انسان کیسی اچھی نماز ادا کر رہا ہے ۔
رب کریم نے ارشاد فرمایا: اے موسیٰ! تجھے اس کے اندر کا حال معلوم نہیں ۔
اگر شخص دن میں ہزار رکعت ادا کرے۔ ہزار غلام آزاد کرائے ۔ ہزار آدمیوں کی نماز جنازہ پڑھے اور ہزار حج کرے تب بھی اسے کوئی نفع نہیں ہو گا۔ جب تک کہ یہ اپنی جمع شدہ دولت سے زکوٰۃ ادا نہ کرے۔
یاد رکھیں :
☆  ہر صاحب حیثیت آدمی کو چاہئے کہ زکوٰۃ ادا کرے ۔
☆  زکوۃ ادا کیے بغیر مال کی پاگیزگی نہیں رہتی ۔

ایک عورت نے سبق دیا

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک لوہار گرم لوہے کو ہاتھ لگاتا تھا تو اس کا ہاتھ نہیں جلتا تھا۔ لوگ حیران تھے سب کا ہاتھ مل جاتا ہے اس کا کیوں نہیں؟ جب اس سے اس کا سبب پوچھا گیا تو اس نے بتایا:
میں ایک بیوہ عورت کی محبت میں گرفتار ہو گیا تھا۔ میں نے کوشش کی کہ وہ میری طرف راغب ہو جائے لیکن اس نے انکار کیا۔ میں نے مال کا لالچ دیا لیکن اس نے پھر انکار کیا۔ میں نے اسے کہا کہ تم میرے ساتھ نکاح کر لو جو جائز طریقہ ہے ۔ اس نے کہا کہ دوسرا شوہر کر کے میں اولاد کو ذلیل نہیں کرنا چاہتی ۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ کچھ عرصہ بعد وہ مالی پریشانیوں کا شکار ہوگئی۔ اس نے مجھ سے قرض مانگا تو میری گندی ذخیت نے اس موقعہ کو غنیمت جانا۔ میں نے کہا قرض دیتا ہوں لیکن تم بھی میری خواہش پوری کرو مجبوری کے  باعث اس نے حامی بھر لی ۔ جب وعدے کے مطابق میں اس کے پاس پہنچا تو مجھے دیکھتے ہی وہ کانپنے لگی۔ کہنے لگی: مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات پاک سے ڈر لگ رہا ہے کہ تمہارے ساتھ منہ کالا کر کے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کیا جواب دوں گی ؟
میں نے اس کی یہ حالت دیکھ کر اسے چھوڑ دیا تو اس کی زبان سے یہ دعانگلی : اللہ تعالیٰ تجھے آگ سے بچائے اس وقت سے مجھے دنیا کی آگ نہیں جلاتی اور اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ مجھے جہنم کی آگ بھی نہیں جلائے گی۔
یاد رکھیں:
حضور کریم کیانی نے فرمایا: جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی اسے جنت کی ضمانت
دیتا ہوں ۔ (بخاری رقاق : ۲۳)
نکاح کے بغیر عورت کے ساتھ دوستی ، ناجائز تعلقات، دوزخ کا راستہ ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں